(خوش آمدید دارالکمال (سلسلہ اویسیہ کمالیہ

تعارف سلسلہ اویسیہ کمالیہ

تصوف، قولِ الہٰی اورسیرتِ نبویﷺ کے عاشقانہ ملاپ کا سفر ہے ۔ عشق، سلوک و تصوف کی انتہا اور ابتداء بھی ہے۔ صوفی کا قول وفعل رضائے شیخ، حبِ رسولﷺ اور خوشنودئ باری تعالیٰ کے آفاق میں سرگرداں رہتا ہے۔ تاریخِ تصوف اُن معظم ہستیوں کی قصیدہ خواں ہے جنھوں نے دینِ فطرت کی سربلندی کے لیے عمریں صرف کر دیں اور طریقت کے مختلف سلاسل قائم کر کے انسانیت کی رہبری کا فریضہ سر انجام دیا۔ ہر سلسلے کی عظمت و رفعت اور شان جداہے۔انہی سلاسل میں سے ایک بلند پایہ’’سلسلہ اویسیہ‘‘ ہے۔

مزید پڑھیں

حضرت فقیر باغ حسین کمالؒ

سلسلہ اویسیہ کمالیہ کے بانی حضرت فقیر پروفیسرباغ حسین کمال المعروف حضرت جیؒ ضلع چکوال کے ایک معروف موضع پنوال میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کی تاریخ ولادت 22؍ مارچ 1937ء ہے۔ آپؒ کا اصل نام باغ حسین تھا، ادبی سفر کے آغاز پر آپؒ نے کمال تخلّص کیا جو آپؒ ایسے باکمال صوفی کے نام کے ساتھ جڑ کر اور بھی بامعنی اور خوش آہنگ لگتا ہے۔ حضرت فقیر پروفیسر باغ حسین کمال کی بہت سی جہات ہیں لیکن آپؒ کا خمیر دراصل تصوّف کی مطہّر مٹی سے اُٹھا تھا۔ عبادت و ریاضت اور زُہد و تقویٰ آپؒ کے خون میں تھا۔ سو یہی وہ حقیقی جادہ تھا جس پر آپؒ تاحیات گامزن رہے۔

مزید پڑھیں

حضرت فقیر تابش کمال

تابش کمال گذشتہ صدی کی آخری دہائی کے اُردو/ پنجابی شعراء میں امتیازی طور پر قابلِ ذکر شاعر ہیں۔ اُنہوں نے اُردو میں خصوصاً نظم اور پنجابی میں نمایاں طور پر کافی کی تنومند روایت کو جدیدحسیّت سے ہم آہنگ کر کے آگے بڑھایا ہے۔ اُن کی اُردو نظمیں کم و بیش ہر موضوع کو محیط ہیں۔ اس فن میں اُن کا اختصاص وہ مٹھاس ہے جو معدودے چند شعراء ہی کو نصیب ہوتی ہے۔ پنجابی کافی میں تابش کمال نے حیرت انگیز طور پر بابا فریدؒ سے لے کر خواجہ فریدؒ تک ہر بڑے شاعر سے تخلیقی طور پر استفادہ کرتے ہوئے بھی اپنی انفرادیت پر آنچ نہیں آنے دی۔ اُن کی کافیاں سوزوگداز کے علاوہ جدید فکر کا احاطہ بھی کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں

تصویریں